(Infectious Bronchitis I.B.)سانس کی نالی متعدی سوزش 

          سانس کی نالی کی یہ سوزش چوزوں میں بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے والی متعدی بیماری ہے جو سانس کی علامات ( چھینکنا، کھانسنا اور نزلہ )، گردوں کی بیماری اور انڈوں کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی  سے مخصوص ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر چوزوں میں پائی جاتی ہے۔ ہر عمر  کے وہ چوزے جو پہلے کبھی بیماری سے متاثر نہ ہوئے ہوں ان کو متاثر کرسکتی ہے۔ یہ ساری دنیا میں پائی جانے والی بیماری ہے۔

وجوہات
یہ بیماری کروانا وائرس( Corona virus) سے پھیلتی ہے اسکی بہت زیادہ  سٹر ین ( Strains) پائی جاتی ہیں۔
قدرتی طور پر صرف چوزے میں اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں ۔ موروں پر تجرباتی طور پر پیدا کی جاسکتی ہے ۔ پیرو اس سے متاثر نہیں ہوتے۔

عمر
12-10          ہفتے سے کم عمر چوزے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ بیماری کے خلاف عمر کے ساتھ ساتھ مزاحمت بڑھتی جاتی ہے۔ پہلے سے موجود بیماری مثلاً  رانی کھیت ، آئی ایل ٹی (I.L.T) کورائز ہ کی بیماری اگر پہلے سے موجود ہو تو اس بیماری کی مدت اور دورانیے میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ بھاری نسل کے نر  چوزے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ ایسی خوراک جس میں لحمیات کی مقدار زیادہ یا سردی کا موسم ہوتو بیماری کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بیماری کا پھیلا ؤ

  • ہوا کے ذریعے ایک دن کے اندر اندر سارا فلاک متاثر ہو جاتا ہے۔
  • ماحولیاتی ذرائع مثلاً ملازم، ٹرانسپورٹ ، چو ہے، چڑیا وغیرہ۔
  • متاثرہ چوزوں کے آپس میں ملنے سے۔

علامات

  • بہت ہی چھوٹی عمر کے چوزے بروڈر کے نزدیک جمع ہو جاتے ہیں۔
  • انڈوں کی نالی خراب ہو جاتی ہے۔
  • چوز ے عام مرغیوں کی طرح بڑھتے ہیں لیکن انڈے کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔
  • شرح اموات 25 سے 30 فیصد ہو جاتی ہے۔
  • بریڈر کی نشوونما کافی کم ہو جاتی ہے۔
  • بڑھوتری کے دوران انڈوں کی نالی (اوکیٹ (oviductکومستقل زخم لگ سکتا ہے۔ جس سے تقریبا20 فیصد مرغیاں انڈے نہیں دیتیں۔

بالغ مرغیاں

  • جب سانس کی علامت کم شد ید ہوتی ہیں ظاہر نہیں ہوتیں یا بالکل ہوتی ہی نہیں۔
  • انڈوں کی پیداوار میں بہت زیادہ کمی (60 سے 90فیصد ) آجاتی ہے۔
  • انڈے کی کوالٹی کم ہو جاتی ہے۔ انڈے کی سفیدی بلکل  پانی کی طرح ہو جاتی ہے اور بعض اوقات ز ردی بھی خراب ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات خون کے چھوٹے چھوٹے داغ بھی انڈے میں پائے جاتے ہیں۔
  • بچے نکلنے کی شرح بھی کم ہو جاتی ہے۔

پوسٹ مارٹم

  • نظام تنفس سانس کی نالی میں ہلکے درجے کی سوزش ہو جاتی ہے
  • گردے بعض اوقات سوجے  ہوتے ہیں۔
  • مثانے کی نالی ( یوریٹرس (Ureters میں یورک ایسڈ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے( Crystal) بھی پائے جاتے ہیں۔
  • بیضہ دوانی ( Ovary) پہلے نرم ہو جاتی ہے اور  پھر شکم  میں ( peritonial cavity ) میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔
  • انڈوں والی نالی (Oviduct) یاتوسکڑی ہوئی ہوتی ہے یا اس پرکوئی ابھار ہوتا ہے۔

تشخیص
وائرس کو علیحدہ کر کے شناخت کر یں۔

تقابلی شناخت
رانی کھیت میں وائرس پرندے کے اعصابی نظام، نظام تنفس  اور نظام انہضام پر حملہ کرتا ہے جس سے پرندوں میں شرح اموات بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ آئ ایل ٹی(I.L.T) ، آئی  بی (I.B) آہستگی سے پھیلتی ہے اور سانس کی نالی میں سوزش کا سبب بنتی ہے۔ سانس کی نالی میں اکثر اوقات خون اور پیپ کے لوتھڑے موجود ہوتے ہیں ۔ نزلہ، زکام ( کور ائزہ (coryza میں چہرے پر سوجن ہو جاتی ہے۔

بچاؤ

بیماری سے پہلے
بیماری سے پہلے چوزوں میں ویکسین کریں بعض اوقات یہ ویکسین رانی کھیت کے ساتھ ملا  کر کرتے ہیں۔ اس کی پہلی ویکسین ۳ -۴ دن کی عمر پر کریں۔ جب کہ دوسری ویکسین ایک ماہ کی عمر پر کریں۔ جب کی تیسری ویکسین اگر ضرورت ہوتو انڈے کی پیداوار سے پہلے کریں ۔ انڈوں کی پیداوار کے دوران مرغیوں کو ویکسین نہ کریں۔

علاج
چھوٹے چوزوں میں بیماری کے بعد کمرے کا درجہ حرارت ٹھیک کر دیں اور ان کو مکئی کا دلیہ دیں۔ گردوں پر اثر کرنے والی بیماری میں سوڈیم سٹریٹ (Sodium citrate) یا پوٹاشیم سٹریٹ (Potassium citrate) ۶ اونس فی تھیلا خوراک کے حساب سے دیں۔ انڈوں میں شیل کی خرابی کم کرنے کے لیے

  • ڈی سی پی ایک کلوگرم فی تھیلا خوراک یعنی 2 فیصد اضافی دیں۔
  • دس گرام فیرس سلفیٹ ( Ferrous Sulphate) فی تھیلا خوراک اچھی طرح مکس کرنے کے بعد 5 سے 7 دن تک دیں۔ بیماری کے زور کم کرنے کے لیے وٹامنز اور دوسری بیماریوں سے بچانے کے لیے کوئی وسیع اثر رکھنے والی ادویات (Broad spectrum Antibiotics)دیں۔